اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مجتہد کے عرفی نام سے شہرت پانے والے سعودی بادشاہ نے بعض سماجی ویب سائٹس پر انکشاف کیا ہے کہ آل سعود کے حکمران عبداللہ بن عبدالعزیز کے بعد کے مرحلے پر غور کررہے ہیں اور کئی لوگ تخت سلطنت سنبھالنے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ مجتہد، جو آل سعود کے بارے میں بہت اہم اندرونی معلومات رکھنے کے باعث، بعض مبصرین کے مطابق، آل سعود خاندان کا فرد ہے اور اس کو خاندان کے تمام اندرونی مسائل کا بخوبی علم ہے، نے انکشاف کیا ہے کہ:ملک عبدالله کو دو بار دل کا دورہ پڑا ہے میرے پاس بادشاہ اور سینئر شہزادوں کی صحت کے بارے میں حقیقی معلومات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہجری قمری سال کے مطابق سعودی بادشاہ عبداللہ کی عمر 94 سال ہے اور وہ کئی بیماریوں میں مبتلا ہیں، انہیں دو بار دل کا دورہ پڑا ہے اور ان کی صحت کے بارے میں ماہ رمضان کے بعد نشر ہونے والی طبی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی جسمانی صورت حال اچانک نہایت خطرناک ہوسکتی ہے۔ بادشاہ نے اپنی صحت کے حوالے سے موجودہ خدشات کے باعث اپنے محلات، گاڑیوں، طیارے اور بعض خاص قسم کے مقامات ـ جہاں وہ کچھ عرصے کے لئے حاضر ہوتے ہیں ـ کو سی سی یو سے لیس کردیا ہے جن میں ڈاکٹر شب و روز الرٹ رہتے ہیں۔ملک عبداللہ اپنی محدود عقلی صلاحیت کے باوجود اپنی ولیعہدی اور بادشاہت کے زمانے میں ایک با ہیبت بادشاہ بننے میں کامیاب ہوچکے ہیں تا کہ اسی ہیبت کے ذریعے آخر عمر تک مسائل کو حل کرسکے۔ بیعت بورڈ کی وقعتی سابق ولیعہد سلطان بن عبدالعزیز کی موت کے بعد بیعت بورڈ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اگلے ولیعہد نائف کی موت کے بعد بیعت بورڈ کو بائی پاس کرکے سلمان کو ولیعہد بنایا گیا جس کے بعد اس بورڈ کی حیثیت ختم ہوگئی اور کوئی بھی آج بیعت بورڈ کو اہمیت نہیں دیتا۔ حالانکہ آل سعود کے پاس اپنے مسائل سیدھے کرنے کے لئے بیعت بورڈ کے سوا کوئی بھی دوسرا اوزار نہیں ہے؛ نیز اس خاندان کے پاس کوئی بھی قوی اور مدیر و مدبر شخص نہيں ہے جو بادشاہت اور ولیعہدی جیسے اہم مسائل کو حل کرسکے۔ آل سعود خاندان کے ذمہ دار افراد ملک کے مسائل ـ حتی کہ معاشرتی مسائل ـ کے بارے میں کسی قسم کی مفاہمت کی خاطر کسی قسم کا کوئی اجلاس منعقد نہيں کرتے اور اس سلسلے میں طلال کا تجربہ بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔ ولیعہد سلمان بن عبدالعزيز بھی الزہائمر کے شکار ہیںسعودی بادشاہ ذہنی طور پر اپنی صحت کے مسائل میں مصروف ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ان کے ولیعہد الزہائمر میں مبتلا ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اس طرف توجہ نہيں کررہے ہیں۔ عبداللہ بن عبدالعزيز اپنے بعد آنے والے حالات پر غور کرنے کو گویا جائز ہی نہيں سمجھتے۔سینئر شہزادوں کی افسوسناک صورت حال / سب سلطنت کی دوڑ میں شاملعبدالعزيز کے باقیماندہ بیٹے "طلال"، "احمد"، "مقرن"، "ترکی"، اور "ممدوح" تخت پر قابض ہونے کے بارے میں سوچ رہے ہيں اور باقی افراد یا اپنا وقت اسپتالوں میں گذار رہے ہیں یا پھر حکومت کے مسائل کو اہمیت نہیں دے رہے ہیں۔ طلال بن عبدالعزیز نے پے درپے حماقتوں کی وجہ سے اپنے تمام کارڈ جلادیئے ہیں اور اپنا خاندان اور قوم ہاتھ سے دے چکے ہیں؛ مقرن کا رنگ کالا ہونے کی وجہ سے وہ احساس کمتری میں مبتلا ہیں اور اپنے بھائیوں کے ساتھ حکمرانوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ وزير داخلہ "احمد" بھی بہت ہی کمزور شخصیت کے مالک اور فیصلہ کرنے میں نہایت بزدل ہیں؛ اسی وجہ سے ان کے بھتیجے محمد نے انہیں اپنی ہی وزارت میں ایک طرف لگا دیا ہے اور خود بیشتر اختیارات کے مالک بن بیٹھے ہیں۔ "ترکی"، "سطام"، اور "ممدوح" کو اگر ولیعہدی کی پیشکش کی جائے تو وہ فوری طور پر ماننے کے لئے تیار ہیں لیکن وہ اس منصب کے لئے لڑنا نہيں چاہتے۔ خاندان آل سعود میں غیراعلانیہ آداب و روایات کے مطابق، عبدالعزیز کا کوئی بھی پوتا سلطنت کے بارے میں حتی سوچنے اور بات کرنے کا حق بھی نہيں رکھتا؛ ان کے لئے اس حوالے سے کوئی موقع فراہم نہیں ہے مگر یہ کوئی حیلہ گری کریں یا پھر ہتھیاروں کے زور سے کچھ کرنا چاہیں۔عبدالعزیز کے پوتوں میں "خالد بن سلطان"، "محمد بن نائف" اور "متعب بن عبدالله" سب سے طاقتور شہزادے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ طاقت کے سہارے اپنے آپ کو دوسروں پر ٹھونس دیں کیونکہ ان تینوں کے پاس فوجی ادارے ہیں۔ خالد بن فیصل کے امریکیوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور وہ امریکیوں کو یقین دہانی کرنے میں مصروف ہیں کہ وہ سعودی عرب کو امریکیوں کی خواہش کے مطابق تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے التویجری اور دوسرے امریکہ نواز شہزادوں کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات ہیں؛ محمد بن فہد بھی خفیہ طور پر بعض طاقتوں کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں اور انہیں وعدہ دے چکے ہیں کہ اگر وہ شاہی تخت پر قبضے میں ان کی حمایت کریں تو وہ انہیں بلادالحرمین میں زیادہ سے زیادہ اثر و نفوذ دیں گے اور انہیں طاقتور بنائيں گے۔ ولید بن طلال بھی شدت سے مغرب کو قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ سعودی حکومت میں وہ سب سے زيادہ طاقتور شخصیت ہیں اور وہ بلادالحرمین میں عوام، قبائل اور شہزادوں کو پیسے دے کر خریدنے میں مصروف ہیں۔عبدالعزیز بن فہد کو میں (مجتہد) نے کافی حد تک رسوا کردیا اور اس کو مختلف شعبوں میں شدید ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا حتی کہ بادشاہ کے دفتر سے بھی انہیں بے دخل کیا گیا لیکن اس کے باوجود وہ اب بھی سوچ رہے ہیں کہ وہ اپنی اربوں ڈالر کی دولت سے خاندان آل سعود میں اپنی کھوئی ہوئی حیثیت دوبارہ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بیمار ولیعہد سے چھٹکارا پانے کا سعودی منظرنامہایک منظرنامہ ـ جس کا نفاذ البتہ ناممکن نظر آتا ہے لیکن آل سعود کے اندر اس پر بحث و جدل کا سلسلہ جاری ہے ـ یہ ہے کہ بادشاہ سلمان کو بے دخل کردیں اور ایک ایسے شخص کو ولیعہد مقرر کریں جو صحت و سلامتی کے لحاظ سے ان سے بہتر ہو۔ آل سعود خاندان کو یقین ہے کہ مشکلات کا حال اس خاندان اور امریکہ پر منحصر ہے اور اس سلسلے میں قومی جماعتوں کا کردار دوسرے درجے کی اہمیت رکھتا ہے اور ان جھگڑوں میں ان کو توجہ نہیں دی جانی چاہئے۔ بہترین منظرنامہ خاندان آل سعود کے لئے یہ ہے کہ سلمان بادشاہ کی موت سے پہلے ہی مرجائیں اور بادشاہ نیا ولیعہد مقرر کریں جو سلامتی اور عقل و فہم کے اعتبار سے بہتر اور مناسب ہو اور ملکی امور کو زیادہ قوت کے ساتھ سنبھالے۔ سلمان کے ہاتھ پر کون بیعت کرے گا؟عبدالعزیز کا کوئی بھی بیٹا اپنے آپ کو نہیں ٹھونس نہيں سکتا اسی بنا پر سلمان کے اپنے بیٹے بیعت کے لئے اپنے باپ کو "روبوٹ" کی طرح قابو میں کرلیں گے اور انہیں اپنی مرضی سے چلائیں گے۔ یہ بیعت شاید عملی جامہ پہنے کیونکہ بادشاہت کی ہیبت کی وجہ سے کوئی بھی اپنی صدا بلند کرنے کا حق نہیں رکھتا اور غالبا عبدالعزیز کا کوئي بھی بیٹا اور کوئي بھی پوتا اس بیعت کی مخالفت کی جرئت نہيں کرے گا؛ لیکن بیعت کس بعد حکومت کے اعلی اہلکار سلمان کے بیٹوں کو پس پردہ بیٹھ کر حکومت کا انتظام چلانے کی اجازت نہیں دیں گے اور اس طرح بعد کے جھگڑوں کے لئے راستہ ہموار ہوجائے گا۔ بلادالحرمین میں فوجی بغاوتاس حوالے سے مواقع صرف ان لوگوں کے لئے مہیا ہیں جو فوجی طاقت رکھتے ہیں جیسے: متعب بن عبداللہ، خالد بن سلطان، محمد بن نائف، لیکن سوال یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس کتنے مواقع ہیں؟ اور ان کے پاس کتنی فرصت ہے؟ خالد بن سلطان کو توقع تھی کہ ان کے والد بادشاہ بنیں گے اور عام طور پر بعض لوگوں کے ساتھ اس لب و لہجے میں بات کیا کرتے تھے کہ گویا "ان کے اور تخت بادشاہت کے درمیان چند ہی سال کا فاصلہ ہے" اور جب ان کے والد کا انتقال ہوا تو وہ کہا کرتے تھے کہ اپنی خاص روش سے اقتدار کے محل تک پہنچیں گے اور جب ہم اس خاص روش کا تجزیہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ خالد بن سلطان فوجی طاقت کو استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اور رکھتے ہیں؛ اسی وجہ سے انھوں نے وزارت دفاع میں رہنے کے لئے بادشاہ کو قائل کرنے کی بہت کوشش کی اور رہ گئے۔ وہ وزارت دفاع کی فورسز کے ایک بہت بڑے حصے پر شدید تسلط رکھتے ہيں اور انہیں توقع ہے کہ اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے فوج سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ جو لوگ خالد بن سلطان کو قریب سے جانتے ہیں، وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کے جنون میں مبتلا ہیں اور شيخی بگھارنے کے حوالے سے مشہور ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہر کام بآسانی کرسکتے ہیں! لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس وسائل اور اوزاروں کی کمی ہے اور اگر وہ اقتدار پر قابض ہونے کی کوشش بھی کریں تو ان کے حریف ان سے زيادہ طاقتور ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ فوج میں فوجی خصوصیات بہت کمزور ہيں، فوج پر ان کا تسلط کمزور ہے، فوج کی ان سے وفاداری بھی کمزور ہے اور ان سب کمزوریوں کا اصل سبب بھی وہ خود ہیں۔ کیونکہ خالد اور ان کے مرے ہوئے بابا اور ان کے بھائیوں نے فوج کے 95 فیصد اموال اور مال و دولت کو چوری کرکے اپنے حسابات میں منتقل کردیئے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ رابطہ افسر (Liaison Officer)متعب بن عبداللہ کا منصوبہ زیادہ معقول اور ہوشمندانہ ہے جو خالدالتویجری کو امریکہ کے ساتھ رابطہ افسر (Liaison Officer) کی حیثیت سے استعمال کرنا چاہتے ہیں؛ التویجری کے ساتھ ان کا منصوبہ خالد بن سلطان کے اقدامات سے بہتر ہے ... منصوبہ یہ ہے کہ متعب آئینی سلطنت کو قبول کریں اور التویجری امریکہ کی حمایت سے ملک کے وزیر اعظم بن جائیں۔ خالدالتویجری کے تمام وزارتخانوں میں با اثر افراد کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور "نیشنل گارڈز" کا ادارہ اس منصوبے پر عملدرآمد کرائے گا۔ "نیشنل گارڈز" کے کمانڈر بادشاہ کے بیٹے متعب بن عبداللہ ہیں اور اس ادارے کی فورسز شہری جنگوں کے لئے پوری طرح تیار ہیں اور اس وقت یہ فورسز ریڈیو اور ٹیلی ویژن سمیت متعدد حساس اداروں کی حفاظت پر مامور ہیں۔ چنانچہ امریکہ کے ساتھ قریبی رابطے، آئینی سلطنت کے منصوبے، ان کے دوست التویجری کے تمام وزارتخانوں میں اثر و نفوذ کے حوالے سے خالد کے منصوبے سے زيادہ بہتر ہے۔ اگلے سعودی بادشاہ محمد بن نائف! گوکہ میرے (مجتہد کے) حساب و کتاب کے مطابق، متعب بڑی آسانی سے اقتدار پر قبضہ کرسکیں گے لیکن ان کے تیسرے اہم حریف کا نام محمد بن نائف ہے۔ محمد تمام سیکورٹی اداروں میں بااثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور یہ تمام ادارے پوری طرح تیار ہیں جبکہ نیشنل گارڈز کی تیاری 40 فیصد اور فوج کی تیاری 20 فیصد ہے۔ ابن نائف کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان کے زیر تسلط سیکورٹی فورسز امن و امان کے تحفظ کے لئے کسی بھی مقام پر حاضر ہوسکتی ہیں، تعاقب کرسکتی ہیں اور حملہ کرکے گرفتار کرسکتی ہیں اور ان کا یہ عمل بالکل فطری سا ہے۔ تیسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ سیکورٹی فورسز تعداد، ہتھیاروں اور وسائل کے لحاظ سے ح
آل سعود کو درپیش منظرناموں کی تفصیل؛
گھر کے بھیدی کے انکشافات: سعودی بادشاہ کی عمر 94 سال ہے/ ولیعہد الزہائمر میں مبتلا ہیں
13 اکتوبر 2012 - 20:30
News ID: 356426
حالیہ مہینوں میں عرفی نام "مجتہد" سے ـ خاندان آل سعود کے پس پردہ حقائق کو فاش کرنے حوالے سے ـ شہرت پاکر بلادالحرمین میں لاکھوں حامیوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے والے سعودی باشندے نے بادشاہ کی اصل عمر 94 سال بتائی ہے اور کہا ہے کہ وہ ولیعہد کے شکار ہیں جبکہ تخت سلطنت پر قبضہ جمانے کے لئے شہزادوں کے درمیان عداوت آمیز مسابقت جاری ہے۔